20 اپریل 2013 - 19:30
انساني حقوق اور امريکا

امريکا نے اپني سالانہ رپورٹ ميں ايسي حالت ميں بعض ملکوں ميں انساني حقوق کي صورتحال پر تنقيد کي ہے کہ انساني حقوق کي پامالي کےتعلق سے خود اس کا ريکارڈ سب سے خراب ہے -

ابنا: امريکي وزارت خارجہ نے انساني حقوق کے بارے ميں اپني سالانہ رپورٹ ميں بعض ملکوں منجملہ ايران روس اور ونيزوئيلا پر الزام لگايا ہے کہ ان ملکوں ميں انساني حقوق کي سرگرميوں کو کچلا جاتا ہے-

امريکا کي اس سالانہ رپورٹ ميں مصر بنگلہ ديش اور چين کي حکومتوں پر بھي تنقيد کي گئي ہے کہ ان حکومتوں نے ان تنظيموں پر پابندي عائد کردي ہے جو انساني حقوق کے لئے باہر سے بجٹ ليتي ہيں -   امريکا کي طرف سے يہ الزامات ايک ايسے وقت لگائے گئےہيں جب بہت سي رپورٹوں ميں خود امريکا کي انساني حقوق کي کھلم کھلا خلاف ورزي کرنے پر مذمت کي گئي ہے -

امريکا داخلي اور بيروني دونوں سطح پر انساني حقوق کي بدترين پامالي کا ارتکاب کرتاہے --     دنيا بھر کے جيل خانوں کے عالمي ريسرچ سينٹر آئي سي پي ايس  کے ذريعے جاري کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق دنيا ميں سب سے زيادہ قيد خانے امريکا کے اختيار ميں ہيں-ان اعداد وشمار ميں بتايا گيا ہے کہ تيئس لاکھ انتاليس ہزار سات سو اکياون امريکي شہري ان جيلوں ميں بند ہيں –تازہ ترين اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امريکا ميں ہر ايک لاکھ باشندوں ميں سے سات سو ساٹھ باشندے جيل ميں بند ہيں اگر ديگر ترقي يافتہ ملکوں ميں قيديوں اور جيل خانوں سے متعلق  ان اعداد و شمار کا موازنہ کيا جائے تو امريکا ميں يہ اعداد وشمار سات سے دس گنا زيادہ ہيں –     امريکا ميں جيلوں کي صورتحال بھي کسي سے پوشيدہ نہيں ہے جن کے بارے ميں وقفے وقفے سے دل دہلانے والے واقعات اور رپورٹيں سامنے آيا ہي کرتي ہيں - گذشتہ دس سال ميں امريکا ميں خاتون قيديوں کي تعداد ميں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور ان خاتون قيديوں کے ساتھ جنسي زيادتي امريکي جيلوں کا بہت بڑا مسئلہ بن گيا ہے  جبکہ جيلوں ميں  بند قيديوں ميں وبائي امراض ميں تيزي سے اضافہ اور حفظان صحت کي افسوس ناک صورتحال بھي امريکي جيلوں کا ايک بڑا مسئلہ ہے -

البتہ امريکي جيلوں کے بارے ميں يہ اعداد و شمار انہي جيلوں کے بارے ميں ہيں جو مشہور ہيں اور سامنے ہيں جبکہ اس ملک ميں تو خفيہ جيليں بھي بڑي تعداد ميں پائي  جاتي ہيں جن کے اندر وحشتناک ايذائيں دي جاتي ہيں-جن ميں ان کو پھانسي کے پھندے پر لٹکا کر ڈرانا ، ان کا گھلا گھونٹنا ، انہيں  زہر  دينا اور سانپ سے  ڈسوانا اور بيمار قيديوں کو ضروري دواؤں اور علاج سے محروم رکھنا وہ غيرانساني طريقے  ہيں جو قيديوں کو ايذائيں دينے کے لئے استعمال کئے جاتے ہيں  -اس کےعلاوہ ان خفيہ جيلوں ميں قيديوں کو بري طرح زد وکوب بھي کيا جاتا ہے جبکہ رپورٹيں بتاتي ہيں کہ امريکا کي خفيہ جيلوں ميں بات صرف زد وکوب پر ہي ختم نہيں ہوتي بلکہ قيديوں کو قتل بھي کرديا جاتاہے -امريکا ميں سزائيں اور قيد کي سزائيں زيادہ تر سياہ فاموں اور ريڈ اندينس  کو ہي دي جاتي ہيں  جبکہ امريکا ميں آدھي آبادي سياہ فاموں کي ہے -     حکومت کي اقتصادي پاليسي پر اعتراض کرنےوالے مظاہرين کے خلاف امريکي پوليس کا تشدد آميز رويہ بھي  کسي سے ڈھکا چھپا نہيں ہے جنہيں تشدد کا نشانہ بناکر جيلوں ميں بند کرديا جاتا ہے –    امريکا کے اندرہونےوالي  انساني حقوق کي خلاف ورزيوں سےہٹ کر اگر بيروني دنيا ميں  امريکا کے رويوں پرنظر ڈاليں تو وہ مغرب کے انساني حقوق کے دعوؤں کے بالکل منافي ہيں –دوسرے ملکوں ميں امريکا کے ذريعے انساني حقوق کي کھلم کھلا خلاف وزري کا اگر جائزہ ليا جائے تو گوانتانامو،  عراق کي ابوغريب جيل  اور افغانستان کا بگرام قيد خانہ  جو امريکا کے کنٹرول ميں ہے امريکا کي پيشاني پر بدنما داغ بنا ہوا ہے اس کے علاوہ اس نے دنيا کے ديگر ملکوں ميں بھي اپني خفيہ جيليں   بنار کھي ہيں-ان تمام حقائق کو ديکھتے ہوئے کون ہے جو يہ کہنے ميں تامل کرے گا کہ انساني حقوق کي سب سے زيادہ خلاف ورزي کرنےوالا ملک امريکا ہے.

.......

/169